قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ اور لوگوں حسین کے تاثرات

شاہد محمود

قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کا پیغام بے شک تڑپتی سسکتی انسانیت کے لیے ایک نوید مسرت ہے۔ لاعلاج اور مایوس لوگوں کے لیے روشنی کی کرن ہے۔ حالانکہ اس پیغام میں پوری کائنات کا حُسن چُھپا ہے مگر یہ ایک انتہائی سادہ اور بےحد آسان عمل ہے جسے کوئی بھی دنیا کا انسان بنا کسی مشکل کے کرسکتا ہے۔ قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ نے اسے ہر طرح کی محدودیت سے پاک رکھا ہے اسی لیے یورپ میں بھی اس پیغام نے بنا کسی رنگ و نسل اور مذہب کے امتیاز کے ہزاروں لوگوں کے درد کو دور کر تے ہوئے ان کے چہروں پر مسکراہٹ دی ہے۔ سورت رحمان کے پیغام نے مجھے سوچوں کے جہنم سے نکلال کر میرے اندر کائنات کے ہرکونے میں بسے لوگوں سے شدید محبت کی بنیاد ڈالی ہے۔ کہی سُنی بات نہیں یہ سچ ہے کہ اس پیغام نے مردہ دلوں کو نئی زندگی عطا کی ہے اور لوگوں کو احسن طریقے سے دوسروں سے پیار کرنا سکھایا ہے ۔ ایک عام انسان بھی اس پیغام کے ذریعے ناصرف خود کو سکون قلب دے سکتا ہے بلکہ بنا کسی کی اجازت لیے دوسروں کی بھی مدد کر سکتا ہے۔ یورپ کے دل چیک رپبلک میں جہاں لوگوں نے خوف ذدہ ہو کر سب مذاہب کو خیر باد کہہ دیا ہے وہاں قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کے اس پیغام نے بے چین ، تڑپتے سسکتے انسانوں کو اُنہی کی عین سوچ کے مطابق ایک بہترین کردار کی طرف راہمائی کی ہے۔ پیغام کی سچائی ، اس کے اندر چُھپی پیار کی چاشنی اور مسلسل بہتے رحمت کے سمندر بے کراں نے لوگوں کے دلوں میں خود اپنی جگہ بنائی ہے سب قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کی موج و کرم کے سبب ہے۔

ہلڈا کوذ لووا

السلام علیکم بابا جی ،شروع میں کچھ میری آپ سے ملنے سے پہلے کی زندگی اور بعد میں سورت رحمان کے معجزات کے باری میں بتانا چاہوں گی۔ میں ایک چھوٹے سے گاوں میں پیدا ہوئی جو کہ ائیرپورٹ سے تقریبا 3 کلومیٹر دور ہے۔ میرے والدین فیکڑی میں کام کرنے والے مزدور لوگ تھے اور میں چار بھائیوں کی اکلوتی بہن ہوں۔ بچپن اتنا تیزی سے گذرا کہ مجھے پتہ تک نہیں چلا کیونکہ میں کھیلوں میں حصہ لینے کی بُہت شوقین تھی اور کھیل کھیل میں ہی وقت کا پتہ نہیں چلا۔ میں نے ہیر ڈریسر بننے کے لیے کالج میں تعلیم مکمل کی۔ اٹھاراں سال کی عمر میں شادی کی اور میری دو بُہت پیاری بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ افسوس کی بات کہ میری ازواجی زندگی شروع دن سے ایک عذاب تھی۔ میں اپنی پچیس سال کی عمر سے کبھی خوش نہیں ہو پائی تھی۔ اپنی شادی کے بیس سال بعد میں نے طلاق لے لی۔ جب میں نے شوہر کو چھوڑا تو میرے ہاتھ میں صرف ایک کپڑوں کا تھیلا اور بیٹیاں ساتھ تھیں۔ اس کے علاوہ سب کچھ مجھے وہیں چھوڑنا پڑا۔ اپنی عمر کے چوبیس سال سے میں تین اور چار جگہ کام کرتی رہی ، کئی فلیٹ سجائے اور میری زندگی کام کرنے اور مشکلات کا سامنا کرنے میں ہی گذرتی گئی۔ میں اپنے اندر کبھی خوش نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی مجھے آرام کرنے کا موقع ملا۔


عمر کے چالیس سال تک میں نے بُہت مشکل وقت دیکھا جس میں ڈپریشن ،پہلے شوہر سے مسلسل لڑائی اور روزمرہ کی مشکلات شامل تھیں۔ بچوں کو پالنے میں وقت نکلتا رہا اور میرے والدین دونوں بُہت جلد اس دنیا سے چلے گئے دونوں کی تدفین کی رسم ایک ہی سال میں ہوئی. ان دنوں زندگی میں خوش ہونا ممکن ہی نہیں تھا۔ پھر ایک وقت کے بعد میری زندگی میں محبت آئی جب میری ملاقات میرے دوسرےشوہر سے ہوئی۔ اس کے بعد روزمرہ کی زندگی نے ہمیں چین نہیں لینے دیا ، کبھی پیسوں کا مسئلہ اور کبھی بیماری کا سامنا رہا۔ میں نے انتھک محنت کی اور ایک وقت کے بعد اپنی جائے پیدائش کے پاس ہی اپنے گھر کی تعمیر شروع کر دی. اب یہاں بھی خوشی نہیں ملی کہ خوش قسمتی ہم پر نہیں مسکرائی ۔ جس کمپنی نے گھر کی تعمیر کرنی تھی اس نے دھوکہ دے دیا اور میرا تقریبا ایک ملین چیک کرون لے کر بھاگ گئی ۔ جس سے میں قرضوں میں گھر گئی. ذہنی طور پر اس بات کا سامنا کرنے کو تیار نہیں تھی اور بیمار ہو گئی ،میرے پتے کا آپریشن ہوا اور انہیں وہ نکلالنا ہی پڑا۔ اس آپریشن کے بعد جب ہمیں ایسا لگا کہ سب سکون میں ہوگا تو ایک اور بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑگیا۔ پچاس سال کی عمر میں ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ میرے گردے میں کینسر ہے۔ میرے اعصاب بالکل جواب دے گئے۔

ساری عمر میرے ارد گرد لوگ رہے اور میں نے ان سب سے بے حد محبت کی اور مسکراہٹیں بانٹیں۔ میرا بیوٹی پارلر میرا شوق بھی ہے۔ میں نے ایلو پیتھک سے ہٹ کرلوگوں کے علاج کی تعلیم بھی لی جس کی وجہ سے ہمیشہ بُہت سے لوگوں سے ملتی رہتی تھی۔ ایک دن میری ایک کسٹمر نے مجھے ایک سی ڈی دی اور تھوڑا اس کے بارے میں بتایا۔ میں نے اس سی ڈی کو ایک سال کے لیے دراز میں رکھ دیا ۔مجھے پھر اس سی ڈی کا خیال اپنی بیماری میں آیا جب میرے کینسر کے آپریشن میں ایک مہینہ رہ گیا تھا ۔ میں نے اسے سننا شروع کیا اور دوسرے ہی دن اس سی ڈی کے کور پر درج نمبر پر رابطہ کیا جو کہ شاہد کا نمبر تھا۔

شاہد نے مجھے کہا کہ سنتےوقت دھیا ن دوں اور سات روز سننے کے بعد اس سے ملاقات ہو گی۔ سورت رحمان سنتے، پہلے ہی لمحے سے میرا دل جیسے باہر آنا چاہتا تھا ایک ناقابل بیان احساس تھا جس میں ذور، روشنی ، سکون اور میوزک تھا جو کہ سب ایک ساتھ میرے جسم اور روح سے گذرگیا۔ سات روز کے بعد جیسے میں نے ایک نئی زندگی میں پہلا سانس لیا۔ سورت رحمان سات دن سننے کے بعد شاہد مجھ سے ملنے آیا اورمجھے بُہت سی باتوں کی وضاحت کرنا شروع کی۔ اس بےچارے کو جیسے ایک نیا کام مل گیا ہو کیونکہ میرے پاس سوالوں کی ایک بُہت ہی لمبی فہرست موجود تھی۔ اس کے بعد ہر روز اس سے ملاقات تھی اور سوالوں کے جوابات اور ان جوابات کی وضاحت تھی۔ مجھے ایک وقت کے بعد اس بات کا احساس ہوا کہ میرا استاد ہے کون اور میرے لیے وہ کتنا اہم ہے۔ اس کا بے حد اعتماد، پیار ، اور صبرجو میں نے کبھی اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔ خاص طور پر اس کا حیرت انگیز حد تک پرسکون ہونا میرے لیے ایک نئی بات تھی جیسے وہ مجھے کئی حسین کھلے دروازوں میں داخل کر رہا ہو۔ میرا بالکل دل نہیں تھا کہ آپریشن کرواوں کیونکہ میں اپنے اندر طاقت اور خوش قسمتی کومحسوس کر رہی تھی۔ میرے اندر سورت رحمان کو سننے اور شاہد سے ملاقاتوں کے بعد ایک نئی زندگی شروع ہو گئی تھی اورمیں اپنی زندگی سے مطمئن بھی ہونے لگی تھی۔ شاہد نے مجھے کہا کہ اب تمھیں آپریشن نہیں کروانا چاہیے ،مگریہ فیصلہ تم خود کرو۔ میں نے بُہت سوچا اور آخر کار آپریشن کروا ہی لیا۔ کیونکہ میرے جسم میں نو ٹیومر تھے جن میں ایک سب سے بڑا گُردے کے اندر تھا۔ ہسپتال میں پہلے ہی دن میں نے نرسوں اور ڈاکٹروں کو سورت رحمان کے بارے میں بتانا شروع کر دیا۔ میرا آپریشن ہو گیا اورمیری طبیعت ناساز تھی مگر اس کے باوجود ڈاکٹر نے مجھے گھر بھیج دیا۔ آپریشن کے تیسرے دن سے میری طبیعت خراب رہی۔ پھر شاہد میرے پاس آیا اور چار گھنٹے تک میرے بستر کے ساتھ بیٹھا رہا۔ اس نے بُہت کوشش کی کہ مجھے اُٹھا سکے مگر میرے اندر ذندگی کے نشانات کم تھے اور میں رخصت ہونا چاہتی تھی۔ شاہد نے سید بابا جی کو لکھا اور ان سے ویڈیوکال کی۔ پہلی بار میں نے جو بابا جی کو دیکھا ہے وہ منظر مرتے دم تک نہیں بھول پاوں گی۔ ،میں نے ان کے کہنے پر وہ الفاظ دُھرائے جنہوں نے مجھے دو منٹ کے اندر اندر بستر سے اُٹھا دیا اور بابا جی نےمجھے کہا کہ اب تم بالکل تندرست ہو گئی ہو۔

یہ کیسی ناقابل یقین بات ہوئی کہ میری شوگر کے علاوہ تھائی رائیڈ کا مسئلہ بھی حل ہو گیا۔ اس کے تین دن بعد میں کام پر واپس موجود تھی اور آج تک اپنے پاوں پرکھڑی ہوں۔ یہ وہ جو مجھے عطا ہوا اس شکل میں عطا ہوا کہ میرے دل کو دوبارہ نئی ذندگی ملی ہے اور میرا خیال ہے کہ میرے وجود کا ایک ایک ذرہ زندہ کیا گیا ہے۔ یہ بات ،یہ احساس میں لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہوں کہ سورت رحمان ، بابا جی اور میرے استاد مجھے ہر روزصبح سے شام تک اپنے ساتھ لے کر چل رہے ہیں اور میں ذندگی ان کے بنا گذارنے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ مجھے نئی زندگی ملی، محبت ملی، میں خوش رہتی ہوں اورمیں زندہ رہنا چاہتی ہوں۔ کچھ وقت کے بعد مجھے بابا جی کی دعاوں میں بیٹھنا نصیب ہونے لگا جس میں سے میں نے بابا جی کے بارے میں جاننا شروع کیا یہاں ہی سے مجھے قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ اور سید بابا جی کے شروع وقت کے احوال کا بھی علم ہوا۔ دعاوں کے سلسلہ نے مجھے ششدر کر دیا۔ میری زندگی میں ایک دانائی بھرنے کر ساتھ ساتھ اپنے آپ سے جنگ کرنے کا سبق ملا۔ مجھے اپنی غلطیاں نظر آنے لگی جن پر میری کڑی نظر ہے۔ میں بابا جی کو محسوس کرتی ہوں اور ان کے آگے ہی جُھک کر سلام کرتی ہوں کہ یہ لوگوں کو سکون ، آرام ، امن اور زندگی کا مقصد دیتے ہیں۔ مجھے میری زندگی کا جو مقصد ،سورت رحمان ساری دنیا کے لوگوں تک پُہنچانے کی شکل میں ملا ہے میری زندگی کی آخری سانس تک جاری رہے گا۔ یہ سب میرا خاندان ہیں جن کو میں کبھی نہیں چھوڑوں گی۔ کچھ وقت کے بعد یہاں چیک رپبلک میں کچھ لڑکیاں ہمارے ساتھ جُڑ گیئں جن میں میری بھتیجیاں ، لوسکا ،پیترا اور شاہد کی سٹوڈینٹ کلارا، مارکیٹا ، سویت لانا، ریناتا شامل ہے جن کی میں دل سے عزت کرتی ہوں کیونکہ یہ اس بات کو سمجھ گئیں ہیں کہ بابا جی کون ہیں۔

مجھے اس بات کا پورا اندازہ ہے کہ ہم اپنے استاد شاہد کے بنا کچھ بھی نہیں ہیں ۔جس نے اپنی محبت اور عاجزی کے ساتھ ہم سب کو اس سچی راہ پر ڈالا ہے۔ آج شاہد میری فیملی کا ممبر ہے۔ ہم سب آپس میں اکثر ملتے ہیں۔ اور جب بابا جی کی دعا ہو تو ہمارے لیے ایک بے حد خوشی اور بے پناہ انرجی لاتی ہے جیسا کہ کو ئی شفاف نشہ ہو۔ ہر دعا کے بعد ہم ایک انرجی کا بم بن جاتے ہیں ، دیوانوں کی طرح سورت رحمان کا پیغام دیتے جاتے ہیں، نئے لوگوں کو ملتے ہیں اور ان کو بابا جی کے بارے میں بتاتے ہیں اور سورت رحمان سننے پر قائل کرتے جاتے ہیں۔ بابا جی سورج کی طرح ہیں ، پاکیزہ سوچ ہیں۔ میری دعا ہے کہ یہ سورت رحمان کا پیغام درست لوگوں، میرے دوستوں ،میرے رشتہ داروں تک پُہنچے اور ان کی زند گیا ں بھی ایسے ہی بدلیں جیسے میری بدلی ہے۔ میری اپنی ان سات پیاروں کی ٹیم کے ساتھ پوری کوشش ہے کہ یہ پیغام پوری دنیا کے ذیادہ سے ذیادہ لوگوں تک پُہنچ جائے۔ بابا جی میں آپ سے دل کی گہرائی سے پیار کرتی ہوں اور بے حد شکر گذار ہوں کہ مجھے یہ معجزہ دیکھنے کو ملا اور میں یہاں ہمیشہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ مجھے علم ہے کہ آپ اس نسل اور آنے والی نسلوں کے لیے شفا ہیں۔۔ میرے استاد کا شکریہ، بابا جی کا شکریہ اور ان سب کا شکریہ جو ان کے ساتھ جُڑے ہیں ۔

پیترا

میری آنٹی نے چیک رپبلک میں میری ملاقات شاہد سے کروائی۔ اس وقت میں بیمار تھی اوربُہت پریشان رہتی تھی ۔ اس ڈپریشن کی وجہ سے مجھے کھانے سے اُکتاہٹ ہو گئی تھی اور مجھ سے کچھ کھایا نہیں جاتا تھا ۔میری زندگی میرے لیے ایک کرب تھی۔ جب میں نے پہلی بار سورت رحمان سنی توشروع میں ایک ذہنی تناو میں تھی جیسے اپنے آپ کو کسی چیز سے بچا رہی ہوں ، میرے اندر بہت سارے خیالات دوڑ رہے تھے جس کی وجہ سے میں اپنی توجہ ایک جگہ پر مرکوز نہیں کرپا رہی تھی ۔ میں اپنے آپ سے کہہ رہی تھی کہ یا خدایا یہ آڈیو کتنی لمبی ہے۔ اسی دوران میں نے ایک لمحے کے لیے اسے غور سے سنا تو یکدم ایک بے حد لطیف احساس ہوا اور اس کے ساتھ ہی میں نےخدا کی موجودگی کو بھی محسوس کیا۔ اس پہلی ہی بار سورت رحمان کوسننے کے بعد میں نے اپنےآپ کو آخر کار ہلکا اور آذاد محسوس کیا اور فورا دوبارہ سننے کی خواہش کی۔۔۔!! پھر میں نے ہر بار سورت رحمان سننے کا بے تابی سے انتظار کیا اور ہر بار کا سننا ایک ناقابل یقین حسین تجربہ تھا!!!! سورت رحمان سننے سے میرے چہرے پر ایک عرصہ کے بعد مُسکراہٹ آ گئی اور میں نے اپنے آپ کو مکمل اور پرسکون محسوس کرنا شروع کر دیا۔ ساتویں دن جو کہ سورت رحمان سننے کا آخری دن تھا ، میں بُہت اُداس تھی کہ اب اس کو اس ترتیب سے روزانہ نہیں سن پاوں گی اور مجھے اس کی بے حد کمی محسوس ہوگی۔

جب میں نے سورت رحمان کو کسی کو دینے کا سوچا تو یہ مجھے بُہت مشکل کام لگا ۔ مجھے علم نہیں تھا کہ کیا کہنا ہے اور کیسے بات کرنی ہے . سورت رحمان کی بات کرتے کیسے برتاو کرنا ہے وغیرہ وغیرہ ۔میرے اندر بُہت سارے خوف اکٹھے ہو گئے تھے۔ مگر پھر میں نے سوچا کہ سورت رحمان نے میری مد د کی ہے تو دوسرے لوگوں کو بھی صحت یاب اور خوش ہونے کا حق ہے اس لیے مجھے ان کی مدد ضرور کرنی چاہیے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہونے میں نے اپنےآپ کو اس کام میں لگا دیا۔ سب سے پہلے میں نے سورت رحمان کے سننے کی ہدایات کا چیک زبان سے جرمن زبان میں ترجمہ کیا اور جو سورت رحمان کی سی ڈیز مجھے شاہد نے دیں ان کے لیے جرمن زبان میں لفافے چھپوا کر انہیں ان میں ڈال لیا۔ اس عمل نے مجھے بے حد خوشی دی۔ مجھے اس دنیا میں اپنے ہونے کی وجہ مل گئی اور لوگوں کے لیے ایسا حسین کام کرنے نے مجھے سکون اور خوشی کی دولت سے مالا مال کر دیا۔

میں سارا دن شہر میں گھومتی ہوں اور سورت رحمان کی سی ڈی اور کارڈ دیتی ہوں۔ جس کو بھی ملتی ہوں اس کے لیے دعا کرتی ہوں چاہے میں کہیں بھی ہوں۔ اکثر ہسپتال جاتی ہوں اور وہاں سورت رحمان کا پیغام دیتی ہوں ان کے لیے دعا کرتی ہوں کہ وہ سب صحت یاب ہو جایئں اور اپنے اپنے گھر چلے جایئں۔ کیا ہی کمال احساس ہے کہ آپ سورت رحمان کا پیغام دے رہے ہیں دُکھی نظر آنے والے نامعلوم لوگوں کے لیے دعا کر رہے ہیں ،میرے خدایا، میری آپ سے گذارش ہے کہ اس حسین احساس کو جاننے کے لیے آپ یہ کر کے دیکھیں۔

بابا جی کی دعاوں سے پھر میں نے اپنے نفس کے بارے میں سیکھنا شروع کیا ۔ میں کبھی اس قابل نہیں ہوں گی کہ اس کا شکریہ ادا کرسکوں۔ یہ ایک بُہت بڑی جنگ ہے مگر میں بابا جی کی اس تعلیم کی شکر گذار ہوں کہ اُنہوں نے مجھے جیسے میرے اپنے اندر دیکھنے کے لیے شیشہ دے دیا ہو اور یہ کہ میں قلندرپاک رحمتہ اللہ علیہ کو ہر لمحہ محسوس کر سکتی ہوں۔

اب زندگی بس حسین ہے میں اکثر اپنی بہن لوسی ، آنٹی ہلڈا ،کلارا اور اُن کے استاد شاہد سے ملتی ہوں۔ جیسے کہتے ہیں نا مست مست ہونا، تو ہم سب ہر وقت مست مست ہوتے ہیں۔ شاہد ہمیں آپ سید بابا جی ، قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں حسین باتیں بتاتا ہے ۔میری زندگی میں ایسا حسین وقت پہلے کبھی نہیں آیا ۔ ہم میں سے کوئی کہیں بھی ہو ہم سب قلندر پاک ؒ کا پیغام دیتے جاتے ہیں اور صرف ایک بات سوچتے جاتے ہیں کہ لوگوں کو قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کا پیغام سے کیسے خوشی دینی ہے۔ اور یہ بات ہم سب نے شاہد سے سیکھی اور اسی کو کرتے دیکھا ہے ۔

دُعا ہے کہ پوری دنیا میں ہر کوئی کم از کم ایک بار قلندر پاک ؒ کے پیغام کو سن لے، سید بابا کواور قلندرپاک رحمتہ اللہ علیہ کو ،ان کے پیغام کو جان لے جو کہ دنیا کے ہر انسان کے لیے ہیں اور ان کا سب کے لیے پیار کسی بھی رنگ ، نسل ، قوم، مذہب اور ہر طرح کے فرق سے بالکل آذاد ہے۔ قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کو اس حُسن کے لیے سیلوٹ پیش کرتی ہوں

کلارا میلرووا

ہم میں سے ہر شخص ایک دوسرے سے مختلف ہے ، ہر شخص جیسا بھی ہے اپنی ذات میں وہ کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہرکسی کو کوئی نہ کوئی پریشانی لاحق ہے اور ہر کوئی اس کو اپنے انداز میں حل کرنا چاہتا ہے مگر کوئی بھی اس قابل نہیں کہ اپنی مشکلات کو حل کر پائے یا مکمل طور پر ان سے چُھٹکارا حاصل کر لے۔ میری مشکل میرا سکول تھا مگر کچھ نایاب لوگوں کی مدد سے میرا مسئلہ مکمل حل ہو گیا۔ مجھے یقین نہیں تھا کہ میری مشکل حل ہو جائے گی مگر کچھ ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں جو انسان کے مقدر کو بدل ڈالتے ہیں اور انسان کو ایک صاف شفاف زندگی دے دیتے ہیں۔ میرے والد مجھے ایک غیر معمولی شخص کے پاس لے گئے جو کہ پہلے لمحے سے ہی بُہت مثبت یا جانے کیسے تھے مگر دوسرے لوگوں سے بہت مختلف تھے ۔ ان کا نام شاہد محمود ہے اور اگر یہ غیر معمولی شخص نہیں ہوتے تو آج میں آپ نایاب باباجی کو یہ سب نہ لکھ رہی ہوتی۔ شاہد محمود میرے انگلش کےاستاد ہی نہیں بنے بلکہ وہ میرے والدین ( میری ماں اور میرے والد دونوں ) ہی بن گئے جس کی وجہ سے میں ان کا بے حد احترام کرتی ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ میری ہمیشہ مدد کریں گے۔ میرے استاد نے مجھے سورت رحمان کی سی ڈی دی اور میری زندگی بھی بالکل و یسے ہی بدل گئی جیسے باقی سب لوگوں کی قسمت اور زندگی جنہوں نے سورت رحمان سنی۔ سورت رحمان ملنے کے بیالیس دن تک میں نے اسے نہیں سنا مگر ایک دن میرے اندر اس کو سن لینے کا خیال آ ہی گیا۔ میرے استاد کچھ دنوں کے لیے پاکستان چلے گئے اور میں نے اس دوران سورت رحمان کو سننا شروع کیا ، سچ میں، میں نے کائنات میں موجود سب سے بڑی خوش قسمتی کو سنا جس کا نام سورت رحمان ہے۔ میں نے اسے سات دن تک دن میں تین بار سنا اور ہر اگلا دن پہلے والے دن سے مختلف ہوتا چلا گیا۔

سورت رحمان سنتے ہوئے میں نے ان سات دنوں میں روشنی دیکھی اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ جب تک سورت رحمان مکمل نہیں ہوتی مجھے اپنا کوئی ہوش نہیں ہوتا تھا۔ میرے پاس اس بات کی کوئی وضاحت نہیں تھی کہ میرے ساتھ یہ کیا ہو رہا تھا مگر میرے دل میں یہ ایک ہی خیال مظبوط تھا کہ اسے صحیح طریقے سے سات دن تک سننا ہے ۔ میرے استا د واپس آئے تو میں نے انہیں بتایا کہ میں نے سورت رحمان سن لی ہے۔ اس کے بعد سب بدل گیا۔ میں نے سیکھا کہ کیسے پڑھنا ہے، کیسے لوگوں کے ساتھ بات کرنی ہے اور ان پر کیسے بھروسہ کرنا ہے۔ میرے استاد نے مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتایا جنہوں نے سورت رحمان کو اس ترتیب سے سننے کا طریقہ عطا کیا اور جن کے بنا اس سی ڈی کو سننے اور اس سے علاج کا طریقہ موجود ہی نہ ہوتا۔ مجھے ایک شخص کے بارے میں بتایا جن کو میرے استاد قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کہتے اور قلندر پاک سرکار رحمتہ اللہ علیہ کے وارث سوہنے سید بابا کے بارے میں بتایا۔ قلندر پاک سرکار رحمتہ اللہ علیہ نے یہ روشنی نبی پاک ﷺ سے حاصل کی اور بنا کسی تفریق کے اسے لوگوں میں پھیلایا۔ مجھے بتایا گیا کہ قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی بُہت مشکل تھی اور انہوں نے اپنا سب کچھ دوسروں پر قربان کیا اور یہ کہ جو کام قلندرپاک سرکار رحمتہ اللہ علیہ نے شروع کیا اسے ان کے وارث سوہنے بابا جی لے کرچل رہے ہیں۔ میرے استاد نے مجھے لوگوں تک اس پیغام کو پُہنچانے کا کہا مگر مجھے اپنے اوپر اتنا اعتماد نہیں تھا کہ ان کی بات پر فورا عمل کر پاتی مگر ان کے پیغام کو دینے کا طریقہ بتانے کے کچھ دن بعد میں نے پیغام دینا شروع کر دیا۔ میں کبھی یہ بات نہیں سوچتی کہ مجھے سورت رحمان کا پیغام دینے میں سب سے بہتر ہونا ہے بلکہ ہر بار قلندر پاک سرکار رحمتہ اللہ علیہ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ میں یہ پیغام دے پاتی ہوں۔ قلندر پاک سرکار رحمتہ اللہ علیہ کے کرم سے میں ایسے نایاب لوگوں سے ملی جن کے لیے میں سب وہ کرنا چاہوں گی جو میرے بس میں ہے۔ میرے نایاب استاد کے بعد میں نے وارث قلندر پاک سرکار رحمتہ اللہ علیہ سوہنے بابا جی ، مام جی سوہنی کو جانا جو کہ اس دنیا میں سب سے حسین لوگ ہیں اور مجھے علم نہیں کہ میں کیسے ان دونوں کا شکریہ ادا کروں۔ میں کچھ اور غیر معمولی خواتین سے ملی جن میں سب سے پہلے خوبصورت ہلڈا ہیں جو کہ میری ماں کی طرح ہیں، ایک زندہ مثال ، جن سے میں بے حد متاثر ہوں۔ ان کی زندگی میں اپنی بیماری سے جنگ جس میں وہ سورت رحمان کی مدد سے جیت گئیں اور اب لوگوں کو صحت یاب ہونے میں اس سورت رحمان سے مدد کر رہی ہیں۔ ان کے علاوہ ان کی دو بھتیجیاں پیترا ، جو کہ بے حد کمال کی حسین خاتون ہیں اور ان کی بہن لوسکا جو کہ خوبصورتی اور معجزات سے نوازی گئیں ہیں۔ جب ہم سب لوگ ۔ میں،میرے استاد شاہد، ہلڈا، پیترا ، لوسکا ایک ساتھ اکٹھے ہو جاتے ہیں تو یہ کائنات کا سب سے حسین وقت ہوتا ہے اور اس کا شکریہ سوائے اللہ کے کسی اور سے نہیں کیا جا سکتا۔

میں کوئی بھی نہیں ہوں کچھ بھی نہیں ہوں مگر ایک بات کا مجھے علم ہے کہ جس تک یہ سورت رحمان کا پیغام پہنچ جائے اور وہ اس کو سن لے تو جان لے کہ اس تک دنیا کی سب سے بڑی خوش قسمتی پہنچ گئی۔ دل کی گہرائی سے میرے استاد کا شکریہ جن کی بدولت ہم سب سوہنے بابا جی اور سوہنی مام جی کے ساتھ بات کر سکتے ہیں رابطہ میں رہ سکتے ہیں اور نا صرف چیک زبان کو بلکہ ان کے ترجمہ کی بدولت اردو، پنجابی اور انگلش میں کی ہوئی بات کو بھی سمجھ سکتے ہیں ۔مجھے علم ہے کہ ہم میں موجود کیسے اس سب سے بُرے سے نجات پانی ہے جس کا نام نفس ہے۔

دل کی گہرائی سے قلندر پاک سرکار رحمتہ اللہ علیہ کا شکریہ کہ مجھ جیسی بے نام کو ایسا حسین تحفہ دیا۔

ایک کبھی نہ ختم ہونے والی مدد کا شکریہ جو بابا جی آپ کی طرف سے اور قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کی طرف سے مل رہی ہے۔

دل کی گہرائی سے آپ کا اور قلندر پاک سرکار رحمتہ اللہ علیہ کا شکریہ کہ ان کی حسین بیٹیوں اور حسین بیٹے ہمارے استاد شاہد سے میری ملاقات ہوئی ۔سوہنےبابا جی لاکھوں کروڑوں شکریہ

لوسی

میں اس حسین لمحے کے لیے بے حد خوشی اور تشکر کے احساس کے ساتھ اپنی بات کا آغاز کروں گی جس میں مجھے سورت رحمان کا پیغام ملا ۔ پہلی بار سورت رحمان سننے سے میرے اندر جہاں ایک سکون کی لہر دوڑی وہاں ایک تناوبھی پیدا ہوا۔ پہلے دو دن میں نے اپنے اندر ایک جنگ کی سی حالت پائی مگر اس کے بعد سب کچھ بدل گیا اور میں ہر اگلے دن بہتر سے بہتر محسوس کرتی گئی۔ میرے اندر کی دنیا کے علاوہ میرے باہربھی ایک بڑی تبدیلی آئی ،وہ یہ کہ مجھے نشہ کرنے کی عادت تھی اورپہلی بار سنتے ہی میں نے وہ نشہ پھینک کے مارا اورہمیشہ کے لیے چھوڑ دیا۔ حیرت انگیز بات کہ مجھے اس کی ایک بار بھی کمی یا ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ اس وقت مجھے یہ علم نہیں تھا کہ یہ تو صرف شروعات ہے۔ سورت رحمان سننے کے بعد سب کچھ ہی بدل گیا۔ میرے دوست، رہائش، کام ، میرا خاندان اور میں خود ساری کی ساری کوئی اورہو گئی ہوں۔ میری زندگی کا سنگین مسئلہ صرف ایک نشہ ہی نہیں تھا بلکہ مجھے بہت ساری نفسیاتی مشکلوں کا بھی سامنا تھا جس میں گھبراہٹ اور ڈپریشن شامل ہیں۔ سورت رحمان نے مجھے ایک نئی دنیا سے متعارف کروایا ہے، میری آنکھیں اور خاص طور پر میرا دل کھول کر ایک نئی آذادی دی ہے۔ جیسے ہی میں نے اپنے آپ کو ایک نئی نظر میں دیکھا تو اپنے ساتھ اور اردگرد کی دنیا کو بھی نئی نظر سے دیکھنے لگی۔ میری گھبراہٹ اور میرے ڈپریشن کو مجھ تک پُہنچنے کا پھر کوئی موقع ہی نہیں ملا۔ ایسا جیسے خدا نے میرے اندر کے اندھیروں کو دور کر دیا ہو اور اس وجہ سے میں باہر کی دنیا کو اور طرح سے دیکھ سکی، پھر سے کُھل کر سانس لے سکی اور خود اپنی زندگی اور لوگوں سے محبت کر پائی۔ اب میں ایک بہت شکرگذار اور خوش انسان ہوں جس کے اندر مستقبل کا کوئی ڈر نہیں ہے وہ اس لیے کہ قلندرپاک رحمتہ اللہ علیہ کے پیغام نے مجھے سکون والی اور حسین زندگی کا نیا موقع دیا ہے ۔ اور میرے اردگرد اوراندر کی دنیا اتنی وسیع ہو گئی ہے کہ دنیاوی چیزوں سے کوئی گھبراہٹ نہیں ہے اور میں ایک بہتر سے بہتر انسان بننے کی کوشش کر رہی ہوں۔ ۔ آج مجھے اس بات کو پتہ چل گیا ہے کہ محبت ایک سچ ہے اور میری دُعا ہے کہ ساری دنیا کو یہ بات معلوم ہو جائے کہ ۔کسی بھی بات سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے!!!!! اس سچ کے ساتھ زندگی میں سب کچھ خود ہی چل رہا ہے اور زندگی ایک بہت بڑا معجزہ بن گئی ہے۔سورت رحمان نے مجھے یہ احساس دیا ہے کہ محبت حالات کو ،لوگوں کو اور ساری زندگی کو بدل ڈالتی ہے۔

مارکیٹا

یہ میرے لیے ایک اعزاز کی بات ہے کہ آپ بابا جی کی کتاب کے لیے کچھ الفاظ لکھنے کا موقع ملا ہے۔ کیا ہی خوبصورت بات ہے کہ آپ بابا جی کی بدولت میں نے اتنے تھوڑے وقت میں کیا کیا پا لیا ہے۔ ہر اگلا دن میری روح کےلیے ایک نئی دولت لے کر آتا ہے اور مجھے خوشی سے سرشا ر کر دیتا ہے۔ میری زندگی جیسے ایک معجزہ ہے اور یہ صرف اور صرف آپ بابا جی کے کرم سے ہے!

سورت رحمان کی سی ڈی سے میرا تعلق ہلڈا اور شاہد کی بدولت ہوا جو کہ میرے رہبر ،استاد اور دوست بن گئے ہیں۔ میں ہر ایک نئے پیغام اور محبت بھری سوچ کے لیے ان کے ساتھ ساتھ آپ کی بھی بے حد شکر گذار ہوں۔ سورت رحمان سننے کے دوران سات روز تک جو میں نے محسوس کیا اس کو کبھی نہیں بھول پاوں گی اور میں نے ہر بار سورت رحمان سننے کے حسین لمحوں کا بے تابی سے انتظار کیا۔ میرے جسم اور روح کا درد آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا اور اس کی جگہ محبت، عاجزی، سکون اور تشکر کا جذبہ میرے دل کی گہرائی میں اُترتا گیا۔ سورت رحمان سننے کے بعد ان باتوں کو جو شاہد اور ہلڈا سے مل کر مجھے پتہ چلیں اور اس پیغام کو دوسروں تک پُہنچانے کا جذبہ شدت سے میرے اندر پیدا ہوا ۔ اس لیے میں نے اس پیغام کے ذریعے دوسروں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ کچھ ہفتے کے بعد مجھے شاہد کا خوبصورت پیغام ملا کہ میں بابا جی کو براہ راست رابطہ کر سکتی ہوں اور ان سے دعاوں کو سننے کی درخواست کر سکتی ہوں۔ اس لمحے تک میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ رابطہ کیسے حسین طریقے سے میری زندگی کو بہترین رنگ میں رنگ دے گا مگر پھر بھی میرے اندر ایک بےحد خوشی کا احساس تھا جیسا کہ میری روح کو معلوم ہو "ہاں! یہی وہ راستہ ہے جس پر میں چلنا چاہتی ہوں، اور یہ ناصرف کہ میری مدد کرے گا بلکہ دوسروں کے لیے بھی راہ نجات بنے گا"

بابا جی میرے اس پہلے خط کا آپ کی طرف سے یہ کبھی نہ بھول جانے والا جواب آیا :

" Walakum Assalam

My dearest daughter

Welcome to the world of great mystic sufi Qalandar Pak (RA). Your message reflects your inner truth and a fragrant commitment with the Qualandar Pak (RA). You are most welcome to listen to Dua. Remember!!!!

Your absolute focuss and consistency is the key of this service to humanity. Iam always praying for you!"

اور اس کے ساتھ بُہت سارے پیار بھرے دل تھے۔. :)

مجھے یاد ہے کہ اس پیغام کو پڑھتے وقت جو مجھے محسوس ہوا وہ انتہائی حسین احساس تھا! میں دل خوشی سے باغ باغ ہوگیا تھا! دعا میں ابھی کچھ روز باقی تھے مگر میں نے ایک ایک دن گِنا اور بے تابی سے اس کا انتظار کیا ۔ روزانہ سوچتی تھی ، کب دعا ہوگی! ان دنوں انتظار کے دوران میں نے کئی لوگوں کو سورت رحمان کا پیغام سی ڈٰی کی شکل میں دیا اور میں ان معجزات کے بارے میں بات کرتی رہی جو مجھے سورت رحمان سننے سے محسوس ہوئے ۔ میں نے لوگوں سے اپنی صحت کے بارے میں ذکر کیا اور بتایا کہ میری فیملی میں، جسے میں بے حد محبت کرتی ہوں ، سورت رحمان سن کر کیا حسین تبدیلی آئی ہے۔ ہر روز میرے لیے ایک حسین دن تھا اور میرے اندر اس بات میں ایک ذرہ برابر بھی شک نہیں تھا کہ مستقبل میں بھی یہ پیارا وقت ایسے ہی حسین رہے گا۔ ہر روز مجھے آپ کا حسین پیغام مل جاتا جس میں میرے سوال کا جواب ہوتا کبھی ایک پیارا پیغام ویڈیو کی شکل میں ہوتا جو مجھے ہنسی دلا کرا یک شفاف مثبت اورمحبت بھری سوچ میں واپس لے جاتا۔

اور آخر کار وہ دن آ ہی گیا ۔شاہد نے مجھے بتایا کہ آج دعا ہے! دعا بالکل ویسی کمال تھی جیسا میں نے سوچا تھا! میں نے ہر لفظ کو سمجھنے کی کوشش کی ،ہر سوچ پر غور کیا اورسچ بات یہ کہ مجھے بُہت ساری باتیں دعا کے ایک ہفتے بعد تک ایک ایک کر کے سمجھ آتی رہیں ۔ دعا کے بعد میں نے آپ کا بے حد شکریہ ادا کیا ، بھلا میں نے اپنی پوری زندگی میں کہاں ایسی خوصورت شام دیکھی تھی جو پاک اور محبت بھری سوچ کو اپنے اندر سما کر، جذبات کی ہم آہنگی کو لیے اتنے سارے حسین لوگوں کے ساتھ دعا کرنے کا حسین لمحہ دیتی ہو یہ معجزہ نہیں تو کیا کہلائے گی۔اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ میں ان دنوں سے ہر دعا کا اسی بے چینی کے ساتھ انتظار کرتی ہوں جس طرح میں نے پہلی دعا کا کیا تھا۔ ہر دعا مجھے ناصرف وہ احساس دلاتی ہے جس کی مجھے اس دن ضرورت ہوتی ہے بلکہ دعا مجھے ہر طرح کے سوالوں کے جواب اور زندگی کے مختلف پہلووں کی وضاحت بھی فراہم کرتی ہے ۔ ہر دعا پہلی سے مختلف ، اوراپنی جگہ بے حد ضروری اور خاص ہوتی ہے جس کے لیے میں بابا جی کی بے حد مشکور ہوں کہ مجھے دعائیں سننے کا موقع ملا۔ کچھ دن پہلے ایک اور حسین واقعہ ہوا۔ شاہد نے مجھے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ میرے گھر کے پاس ایک شخص کو سورت رحمان کی سی ڈی کی سخت ضرورت ہے اور مجھے اس کے ساتھ مل کر دعا کرنے کی بھی ہدایت کی۔ یہ میرے لیے ایک بڑا چیلنج تھا مگر اس کے ساتھ میں نے رحمت کو محسوس کیا کہ میں بھی کسی کی مدد کر سکوں گی اور ایک بڑی ذمہ داری کہ آیا میں یہ کام صحیح طرح انجام بھی دے سکوں گی کہ نہیں۔ وہ آدمی مقررہ جگہ پر آیا تو میں نے اُسے سورت رحمان کے بارے میں اور دعا کا طریقہ بتایا ۔ اس شخص کی پاس بُہت ذیادہ سوچیں تھیں اور اس نے پوری کوشش کی کہ ان سب سوچوں سے مجھے متعارف کروائے۔ میں اس کی بات تحمل سے سنتے اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی اور دل میں قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کو مسلسل یاد کرتی رہی جیسا کہ مجھے شاہد نے کہا تھا اور میں نے اس دعا پر مکمل دھیان دیا جو کہ اس کو میں نے آخر میں کروانی تھی۔ سچ میں قلندرپاک رحمتہ اللہ علیہ کا خیال آتے جیسے دعا فورا قبول ہو گئی ہو، وہ شخص خاموش ہو گیا اور میں نے دل میں کہا قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ یہ تو سچ میں قبول ہو گئی۔ اس کے بعد میں نے اس سے مل کر ایک پرسکون دعا کی۔ دعا کے بعد جب میں نےا س سے پوچھا کہ اُسے کیا محسوس ہوا تو اس نے جواب دیا کہ اس کے سینے میں ساری دعا کے وقت ایک حرارت رہی۔ جب وہ رخصت ہوا تو بالکل پرسکون اور مطمئن تھا۔ میرے لیے یہ ایک بُہت بڑا تجربہ تھا جس میں رحمت اور کسی کے درد کو محسوس کرنے کا جذبہ بھی موجود تھا۔ آخر میں دل کی گہرائی سے احترام ،ادب ، عاجزی اور محبت کے جذبے سے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گی کہ میں آپ کی کتاب کے لیے اپنے خیالات کو لکھ پائی اور آپ کے اس حسین کام میں کہیں شریک ہو سکی۔ دل کی گہرائی سے اس کا احترام کرتی ہوں۔

میں ہر ایک کامیابی اور ناکامی کے بے حد شکر گذار ہوں کیونکہ مجھے علم ہے کہ ہر کامیابی اور ناکامی دونوں میں سے میں بے پناہ باتیں سیکھتی ہوں اور ہر تجربہ مجھے تب تب مضبوط کرتا ہے جب جب مجھے اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے حالات اور اردگرد کے لوگ نہیں بدلے مگر میرا ان کو دیکھنے کا انداذ بدل گیا ہے۔ بابا جی اور قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کی ہر عطا کا شکریہ جنہوں نے مجھے ہلڈا اور شاہد جیسے استاد بھی دیے ہیں۔ ایک بار پھر دل کی گہرائی سے شکریہ۔

مارٹن نوووتنی

السلام علیکم بابا جی ، سورت رحمان سننے سے پہلے میں ہرایک ایسی بات کے لیے بھی تنقید سنتا رہتا تھا جو کہ میں نے کبھی کی ہی نہیں ہوتی تھی۔ کچھ کہنا چاہتا مگر ہمیشہ خاموش رہتا۔ سورت رحمان سننے کے تیسرے دن میری جاب کام پر ایک ایسا موقع آیا کہ میرے سپر وائزر نے مجھے اونچی آواز میں جھڑکنا شروع کر دیا۔ میں نے اسے بڑے آرام سے سمجھایا کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے اور کبھی بھی میرے ساتھ بلند آواز میں یا جھڑک کر بات نہیں کرنی چاہیے۔ میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ سورت رحمان سنے سے میرے اندر ایک اعتماد پیدا ہوا اور مجھے معلوم ہو گیا کہ میرا سپروئزر میرے ساتھ وہ سلوک نہیں کر سکتا جو وہ پہلے کرتا تھا۔ سورت رحمان سنتے وقت میں نے اپنے اندر ایک سکون کو محسوس کیا اور میرا دل چاہتا تھا کہ میں سو جاوں اور مجھے دنیا میں کسی چیز کی پرواہ نہیں رہی۔ ہر طرف سکون اور آرام ہے۔ میں بُہت خوش ہوں کہ میں ایسی بات جان پایا جس کے بارے میں ، میں ہمیشہ سوچتا اور اپنے آپ سے پوچھتا تھا کہ آیا دنیا میں اس کا وجود ہے بھی یا نہیں۔ شاہد کی موجودگی کا بُہت بُہت شکریہ ،اس کی ہمارے گھر میں آمد اور اس کے بعد جو ہوا اس کی بدولت میری بیوی میرے پاس موجود ہے جس سے میں بے حد محبت کرتا ہوں۔ میرا اپنی بیوی سے تعلق جیسا بھی ہے کبھی اوپر کبھی نیچے مگر شکر ہے کہ ہر وقت کچھ ہوتا تو رہتا ہے ۔ آج کی دُعا میں نے اپنے اندر ایک دوسرے (نفس) کے بارے میں سنا۔ بے شک ہر ایک کے اندر ایک ایسا موجود ہے اور ہر کوئی میرے سمیت اس سے جنگ کرتا ہے۔ مگر ان دونوں کے وجود سے اچھا ہو یا بُرا ہم انسان کہلاتے ہیں ان دونوں کا ہونا بُہت ضروری ہے ۔ اگر صرف ایک ہوتا تو دنیا میں بُہت بوریت ہوتی۔ میں آپ سے بُہت محبت کرتا ہوں ۔ اس دن کا شدت سے انتظار ہے جس دن آپ کی امد ہو گی۔

مارٹن ویلش

بابا جی سے میرا رابطہ شاہد محمود کے ذریعے ہوا جس نے اپنی محبت اور قربانی سے مجھے سورت رحمان سننے کا موقع دیا اور میری زندگی کو بالکل بدل دیا۔

شاہد! تمھارا بہت شکریہ گذار ہوں تم نے مجھے بابا جی سے بات کرنا اور اُن کی مثبت سوچ کو محسوس کرنا بھی سکھایا ہے ۔ سورت رحمان کی سی ڈی نے مجھے بابا جی کی روشنی اور طاقت دی ہے جس کی بدولت میں اپنی زندگی کو بہتر کر سکتا ہوں اور اپنے اوپر مسلسل محنت کر سکتا ہوں ۔ اس کے علاوہ یہ تحفہ باقی لوگوں تک بھی پہنچا سکتا ہوں۔ دن میں کئی بار بابا جی کو ان کی جدوجہد، محبت اور اس مدد کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو کہ میرے تک کئی بار میرے مشکل وقت میں پہنچی ہے یا ان لوگوں تک پُہنچی ہے جن کے بُرے وقت میں میری ان سے ملاقات ہوئی اور میں نے بابا جی سے ان کے لیےبھی مدد کی درخواست کی۔

اس سال گر میوں کی چھٹیوں میں کروشیا کے ساحل پر میرے دوست کی بیٹی گم ہو گئی ہم نے قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ کو درخواست دی اور وہ بیٹی مل گئی ، اس کے لیے میں اور وہ سب لوگ جو وہان موجود تھے ،ہم سب بے حد مشکور ہیں۔ اس کے علاوہ میں ان سب چیزوں اور مدد کے لیے شکر گذار ہوں جن کے لیے میں قلندر پاک رحمتہ اللہ کو درخواست کرتا رہتا ہوں ، آپ بابا جی سے اور آپ کے کاکے سے رابطہ دینے کا شکریہ کہ جس کی وجہ سے میری زند گی میں بہت سارے خوبصورت لمحات آ تے رہتے ہیں ۔

بابا جی کا روزانہ شکریہ ادا کرتا ہوں اس روشنی کے لیے جو انہوں نے مجھے دیکھنا نصیب کی ہے۔

شکریہ ان سب خوبصورت لمحات کا ، ان خوبصورت تجربات کا جو اب تک میرے ساتھ پیش آئے ہیں ۔


ان سب مشکل اور نا مناسب لمحات کا بھی شکریہ جنہوں نےمجھے بہتر بننے کا موقع دیا اور مجھے درست راستے پر چلنے کی جدوجہد کی ہمت دی۔

ہر اس دن کا شکریہ بابا جی جو آپ نے مجھے اپنے ساتھ گذارنے دیا ہے۔


سویت لانا

میرا نام سویت لانا ہے اور میں آپ کی بے حد شکر گذار ہوں کہ آپ انسانیت کی مدد کر رہے ہیں، لوگوں کو ان کی زندگیوں کا مقصد دے رہے ہیں اور صرف اُمید تک ہی بات نہیں ہے بلکہ حقیقتی زندگی میں خوشی دیتے چلے جا رہے ہیں جس کی ایک زندہ مثال میں خود ہوں ۔ میری بابا جی کی کاکی ہلڈا سے ملاقات اچانک ہی ہوئی۔ میری دوست نے مجھے ہلڈا کے بارے میں بتایا اور اس کے پاس جانے کو کہا تا کہ وہ میرا اچھا سا ہیر سٹائل بنا دے۔ پہلے ہی لمحے میں جب ہلڈا کے پاس پہنچی تو میں نے حد سے ذیادہ پیاری خوشبو کو محسوس کیا اور میں نے اس سے پوچھا کہ یہ خوشبو کہاں سے آ رہی ہے؟ مجھے اس لمحے یہی خیال آیا کہ ضرور یہ خوشبو اس گھر میں پاکیزگی اور مثبت انرجی کی وجہ سے ہے۔ میں نے اُسے یہ کہہ تو دیا مگر مجھے اُس لمحے یہ علم نہیں تھا کہ جو میں کہہ رہی ہوں اس کے معنی کیا ہیں۔ میں نے ہلڈا کو کہا کہ مجھے تھایوریڈ گلینڈ کی بیماری ہے ۔اس نے مجھے سورت رحمان کی سی ڈی دی اور بتایا کہ یہ سی ڈی میری مدد کرئے گی اور مجھے بتایا کہ کیسے آپ بابا جی نے ہلڈا کی بیماری سے شفا میں اُس کی مدد کی اور کیسے اس کو ہر بیماری سے نجات دلائی۔ میں نے گھر جا کر اس سورت رحمان کی سی ڈی کو سننا شروع کیا اور جو آڈیو میں نے سنی اس کی طاقت نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ میں نے اسے دن میں تین بار سنا اور ہر بار میرےسامنے ایک ہی تصویر آتی رہی۔ میں نے سوچا کہ شاید بعد میں کوئی اور چیز نظر آئے مگر جتنی با رمیں نے اس آڈیو کو سنا وہی تصویر میرے سامنے آتی رہی۔ مجھے اس وقت انداذہ ہوا کہ یہ جو میں دیکھ رہی ہوں وہ میرا کوئی اپنا خیال نہیں ہے بلکہ وہ سچ ہے۔ میں نے یہ دیکھا کہ ایک صحرا ہے جس کے بالکل درمیان میں ایک کھجور کا درخت ہے ۔اور اس کے نیچے ایک شخص بیٹھا ہے اور وہ شخص دوسری طرف سمندر کو دیکھ رہا ہے ۔ سورج چمک رہا ہے اور وہ سارا وقت میری طرف کمر کر کے ہی بیٹھا رہتا ہے۔ میں نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا ۔ میں معافی کے ساتھ یہ کہہ رہی ہوں کہ وہ قلندر پاک بابا جی رحمتہ اللہ علیہ تھے جنہوں نے مجھے وہ روشنی دی جو کروڑوں لوگوں کی زندگی بچا رہی ہے اور اسی روشنی نے میری بھی زندگی بچائی ہے۔ کچھ ماہ کے بعد میں نے ہلڈا سے پوچھا کہ کیا اس کے پاس اور سورت رحمان کی سی ڈی ہیں تو شاہد نے مجھے بُہت ساری سی ڈی دیں جو کہ میں پراگ میں ٹرام چلاتے ان سب لوگوں کو دیتی ہوں جن کو امید اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجھے یہ سمجھ میں آیا کہ سورت رحمان کی سی ڈی صرف ایک سی ڈی نہیں ہے بلکہ یہ اس سے کہیں بڑھ کر کچھ ہے، یہ ہر انسان کی زندگی میں ایک ایسے حسین دروازے کی چابی ہے جس کو کبھی کسی نے خواب میں بھی نہیں دیکھا۔ اگر ہم یوں کہیں کہ انسان ایک خزانہ تو یہ اس خزانہ کی چابی ہے ۔ایک ایسے خزانے کی جو اپنے اندر پوری کائنات کی خوش قسمتی سمائے ہوئے ہے۔ اور ہر انسان کو یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ یہ خوش قسمتی اور دولت جو اس کے اندر رکھ دی گئی ہے یہ ساری دولت اس بڑی کہکشاں کے سامنے ایک ذرے کے برابر بھی نہیں ہے ۔اس کے بعد انسان کو یہ سمجھنا ہے کہ اس بے پناہ دولت جو اس کو تحفہ میں ملی ہے اسے استعمال کیسے کرنا ہے ۔ پھر انسان یہ سمجھ جائے گا کہ ہر بات ممکن ہے اور اس کے لیے اُسے صرف خواہش کرنی ہے ، اس کی دعا کرنی اور دعا پر مکمل بھروسہ کرنا ہے۔

ساشا ، یوکراین سے پیغام ، سویت لانا کی زبانی

ساشا نے سورت رحمان کی سی ڈی کو سنا اور اس نے یہ پیغام دیا ہے کہ آپ سب کو اس کی طرف سے سلام کہوں۔

اس نے سورت رحمان سننے کے دوران بُہت اچھا محسوس کیا اور مجھے درخواست کی کہ اس کی محسوسات کو آپ تک پُہنچاوں۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ یہ سمجھا ہے کہ قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ ایک خاص چنے ہوئے انسان تھے ،چنے گئے تاکہ اس انسانیت کو یہ پیغام دے دیں ، وہ پیغام جو کہ اُس دانائی اور کہکشاں کی طرف سے تھا، اور ہم اس اوپر والے کو مختلف ناموں سے پکارتے ہیں۔ یہ سن کر مجھے یہ معلوم ہوا کہ دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے کہ لوگ خود ساختہ من گھڑت باتوں اور نفرت کی وجہ سے اپنےآپ کو ایک محدودیت میں لے گئے اور اس وجہ سے کچھ نیا کرنے کہ صلاحیت کو کھو بیٹھے ہیں ۔ یہ سورت رحمان کی سی ڈی لوگوں کو ثابت کررہی ہے کہ ہر بات ممکن ہے ۔ قلندر پاک رحمتہ اللہ علیہ ایک با برکت ، رحمت بھرے انسان تھے جن کا کام لوگوں کا یہ بتانا تھا کہ معجزات ایک حقیقت ہیں اور ان معجزات میں سے ایک انسان خود ہے۔